نئی دہلی، 25؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )نیشنل درج فہرست ذات کمیشن نے گجرات کے بناس کانٹھا ضلع میں مری ہوئی گائے کی کھال اتارنے سے انکار کرنے پرایک حاملہ دلت خاتون کی مبینہ طور پر پٹائی کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاستی انتظامیہ قصورواروں پر سخت کارروائی کرے۔کمیشن کے صدر پی ایل پنیا نے ایک بیان میں کہاکہ او نا کے واقعہ کے بعد ایک بار پھر اس طرح کاواقعہ پیش آیا ہے ۔مری ہوئی گائے کی کھال نہیں اتارنے پرحاملہ خاتون کی بے رحمی سے پٹائی کا انتہائی شرمناک ہے۔یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی انتظامیہ دلتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس واقعہ کے ذمہ داروں پر انتظامیہ کوسخت کارروائی کرنی چاہیے ۔پونیا نے کہاکہ ہم جلد ہی ریاستی اور ضلع انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ مانگیں گے۔میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق بناس کانٹھا ضلع میں 25سالہ ایک دلت خاتون سنگیتا رنواسیا اور اس کے شوہر نیلیش رنواسیا کی کچھ لوگوں نے صرف اس لیے پٹائی کردی کیونکہ انہوں نے مری ہوئی گائے کی کھال اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔سنگیتا پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔حال ہی میں گجرات کے او نا میں مری ہوئی گائے کی کھال اتارنے کو لے کر کچھ دلتوں کی بے رحمانہ طریقہ سے پٹائی کے معاملے پرپورے ملک میں سخت رد عمل دیکھنے کو ملا تھا ۔اس کو لے کر گجرات کی دلت کمیونٹی نے بڑے پیمانے پر تحریک بھی چلائی تھی ۔پنیانے کہا کہ کمیشن نے مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک دلت خاتون کی آخری رسوم روکے جانے کے معاملے میں بھی ریاست اور ضلع انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔